اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق یہ صہیونی ربی ـ جو غیریہودیوں کا مسئلہ حل کرنے کے درپے ہیں ـ کہتے ہیں کہ غیریہودیوں کا قتل جائز ہے چاہے وہ بچے ہی کیوں نہ ہوں.
ان ربیوں نے انتہاپسند صہیونیوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے کیونکہ ان کے بقول جو کوئی بھی ملت یہود کا دشمن ہو چاہے بڑا ہو چاہے چھوٹا ہو، بے گناہ ہو یا گنہگار، اس کو مارا جاسکتا ہے.
صہیونی ربیوں نے کہا کہ کہ جن لوگوں کے بارے میں شبہہ ہو کہ ممکن ہے وہ مستقبل میں اسرائیل کے لئے خطرہ بن جائیں ان کا قتل جائز ہے.

اس رپورٹ کے مطابق اسرائیلی روزنامے "معاریو" نے ایک کتاب کا انکشاف کیا ہے جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے. اس کتاب میں یہودی ربی "اسحاق شبیرا" نے ان حالات و مواقع کا ذکر کیا ہے جن میں "اجنبیوں (یعنی غیریہودیوں) کو قتل کیا جاسکتا ہے.
ربی اسحاق شبیرا مقبوضہ فلسطین کے شہر "نابلُس" کے قریب "یتسہار" کے علاقے میں ایک صہیونی مدرسے کا سربراہ ہے. اس مدرسے کا نام ہے: "یوسف ابھی زندہ ہیں"؛ اس صہیونی ربی نے ایک دوسرے شخص "ربی یوسی الیتسور" کے ساتھ "اجنبیوں کو ہلاک کرنے کی دلائل" کے عنوان سے یہ کتاب شائع کی ہے. ربی اسحاق شبیرا کے مدرسے میں طلبہ کو سکھایا جاتا ہے کہ کن حالات میں یہودی عقیدے کے مطابق اجنبیوں (غیریہودیوں) کو ہلاک کیا جاسکتا ہے.
یادرہے کہ بعض اسلامی ممالک میں بعض انتہاپسند اسلامی گروہوں کے مدرسوں میں اگر ایسی باتیں سکھائی جائیں تو پورا یورپ اور امریکہ شور مچانے لگتے ہیں مگر یہاں دنیا خاموش ہے.
رپورٹ کے مطابق مذکورہ کتاب میں دو صہیونی ربیوں نے تورات اور "ہالاخاہ" (شریعت یہود) سے بھی استفادہ کیا ہے اور اس کتاب میں یہودیوں کے دینی باپ "ربی کوک" کے نظریات کے بعض گوشے اور قدس میں واقع دینی مدرسے "مرکازہراف" کے سربراہ "شائوم یسرائیلی" کے نظریات بھی بیان کئے گئے ہیں.
ان دو یہودی ربیوں نے وہ حالات اور مواقع بھی بیان کئے ہیں جن میں غیریہودیوں کو قتل کیا جاسکتا ہے اور ان احکام میں وہ "سات فرائض" بھی شامل ہیں جو دنیا کے ہر گوشے میں ہر یہودی پر لازم اور واجب ہیں.
اس کتاب میں تأکید ہوئی ہے: «ہر گاہ ہم کسی ایسے شخص سے ملتے ہیں جو ان سات واجبات پر عمل نہیں کرتا ہم اسی قتل کرڈالتے ہیں اور اس سلسلی میں کوئی بھی شرعی رکاوٹ موجود نہیں ہے».
کتاب کے ایک حصے میں یوں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے: «جن جن جگھوں پر اجنبی موجود ہوں اور ان کی موجودگی اسرائیل کی حیات کے لئے خطرہ ہو؛ ان لوگوں کا قتل جائز ہے خواہ وہ دنیا کی ملتوں کے دوست ہی ہوں اور دنیا کے موجودہ حالات میں ان سی کوئی گناہ بھی سرزد نہ ہوا ہو!».
ان دو ربیوں نے فتوی دیا ہے کہ فلسطینی بچوں کا قتل بھی جائز ہے کیونکہ وہ راستے بند کرتے ہیں اور بڑے ہوکر اسرائیل کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں چنانچہ انھیں بچپن میں ہی ماردینا چاہئے.